
پاکستان میں 30 فیصد سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں ایک ہی استاد متعدد جماعتوں کو پڑھانے پر مجبور ہے۔
June 28, 2026ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے تقریباً 30 فیصد سرکاری اسکولوں میں صرف ایک استاد تعینات ہے، جو بیک وقت مختلف جماعتوں کے طلبہ کو پڑھانے کی ذمہ داری انجام دیتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسے سنگل ٹیچر اسکولز (Single-Teacher Schools) زیادہ تر دیہی اور دور دراز علاقوں میں واقع ہیں، جہاں اساتذہ کی کمی کے باعث ایک ہی استاد کو تدریس کے ساتھ ساتھ انتظامی امور بھی سنبھالنے پڑتے ہیں۔
ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس صورتحال کی وجہ سے:
ایک استاد کے لیے تمام جماعتوں پر یکساں توجہ دینا مشکل ہو جاتا ہے۔
طلبہ کی تعلیمی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔
تدریسی معیار میں کمی آ سکتی ہے۔
اساتذہ پر کام کا بوجھ غیر معمولی حد تک بڑھ جاتا ہے۔
تعلیمی ماہرین نے حکومت پر زور دیا ہے کہ اساتذہ کی خالی آسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں مزید اساتذہ تعینات کیے جائیں تاکہ ہر طالب علم کو معیاری تعلیم کی بہتر سہولت میسر آ سکے۔