
Punjab to Launch New Marking System for Board Exams
October 6, 2026پنجاب میں امتحانی نظام میں بڑی ڈیجیٹل تبدیلی، پیپر چیکنگ کا روایتی طریقہ ختم ہونے کا امکان
پنجاب کے تعلیمی بورڈز امتحانی نظام میں ایک اہم ڈیجیٹل تبدیلی لانے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے تحت طلبہ کی روایتی انداز میں جوابی کاپیاں چیک کرنے کے بجائے انہیں اسکین کرکے اسکرین پر مارکنگ کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔
تعلیمی شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کا مقصد مارکنگ میں غلطیوں کو کم کرنا، امتحانی عمل میں شفافیت اور جواب دہی بڑھانا اور طلبہ کا نتائج پر اعتماد بحال کرنا ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت امتحان مکمل ہونے کے بعد طلبہ کی جوابی کاپیوں کو اسکین کرکے محفوظ ڈیجیٹل ریکارڈ میں تبدیل کیا جائے گا۔ اس کے بعد یہ اسکرپٹس الیکٹرانک طریقے سے مجاز ممتحنین کو تفویض کیے جائیں گے۔
روایتی مارکنگ سینٹرز پر پیپرز کے بنڈل فراہم کرنے کے بجائے ممتحنین ایک محفوظ آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے اسکین شدہ جوابی کاپیوں کو اپنی اسکرین پر دیکھیں گے اور وہیں ان کی جانچ کریں گے۔
ضمنی امتحانات سے پائلٹ منصوبے کا آغاز
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے تمام تعلیمی بورڈز کو امتحانی نظام میں ڈیجیٹل اصلاحات متعارف کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ابتدائی طور پر آن لائن اسکرین مارکنگ کا نظام ضمنی امتحانات میں پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر شروع کیے جانے کی تجویز ہے۔
نئے نظام میں ممتحنین کی شناخت کی تصدیق کے لیے بھی جدید طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق فیشل ریکگنیشن یا دیگر محفوظ تصدیقی طریقوں کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ مارکنگ کے لیے مقرر کیا گیا ممتحن ہی متعلقہ پیپر چیک کر رہا ہے۔
اس اقدام سے ممتحنین کے لاگ اِن کی تفصیلات کسی دوسرے شخص کے ساتھ شیئر کرنے یا کسی اور سے پیپر چیک کروانے کے امکانات بھی کم ہوں گے۔
لاہور بورڈ میں ڈیجیٹل مارکنگ کا آغاز پہلے ہی ای مارکنگ کے حوالے سے اصلاحات کا اعلان کر چکا ہے۔ اس نظام کے تحت تھیوری پیپرز کو اسکین کرکے ڈیجیٹل شکل دی جائے گی جبکہ ممتحنین کو محفوظ آئی ڈیز فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ گھر یا کسی دوسرے مجاز مقام سے جوابی کاپیوں کی جانچ کر سکیں۔
یہ نظام مرحلہ وار نافذ کیے جانے کی توقع ہے اور وقت کے ساتھ مزید مضامین کو بھی اس میں شامل کیا جا سکتا ہے۔
ممتحنین کے لیے وقت کی پابندی بھی ہوگی
مجوزہ ڈیجیٹل مارکنگ سسٹم میں ممتحنین کے لیے مخصوص وقت بھی مقرر کیا جا سکتا ہے۔ ہر تفویض کردہ پیپر یا شیٹ کو مقررہ مدت کے اندر چیک کرنا ہوگا۔
اس کے ذریعے بورڈ حکام یہ معلوم کر سکیں گے کہ کون سی جوابی کاپیاں زیرِ التوا ہیں اور کہاں غیر معمولی تاخیر ہو رہی ہے۔
مزید یہ کہ مارکنگ کے ہر مرحلے کا الیکٹرانک ریکارڈ محفوظ ہوگا۔ اس ریکارڈ سے معلوم کیا جا سکے گا کہ پیپر کب سسٹم میں موصول ہوا، کس ممتحن کو دیا گیا، کب چیک کیا گیا اور اس پر کتنا وقت صرف ہوا۔
طلبہ کی شکایات کم کرنے کی کوشش
امتحانات کے بعد غلط مارکنگ، سوالات چیک نہ ہونے، نمبروں کے حساب میں غلطیوں اور مختلف ممتحنین کی جانب سے مارکنگ کے معیار میں فرق جیسے مسائل پر طلبہ اور والدین کی جانب سے کئی مرتبہ تحفظات سامنے آتے رہے ہیں۔
ڈیجیٹل مارکنگ کا نیا نظام ان مسائل کو کم کرنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
چھوٹے بیچز میں پیپرز کی تقسیم
نئے طریقہ کار کے تحت جوابی کاپیوں کی تقسیم کا انداز بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔ ایک ہی ممتحن کو سینکڑوں مکمل جوابی کاپیاں دینے کے بجائے سوالات یا پیپرز کو چھوٹے بیچز میں الیکٹرانک طریقے سے تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
لاہور بورڈ کی جانب سے بھی مارکنگ کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے سوالات کو چھوٹے بیچز میں تقسیم کرنے کے منصوبے کا عندیہ دیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہوگا کہ اصل جوابی کاپیوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کم ہو جائے گی۔ اسکین شدہ کاپیاں محفوظ طریقے سے براہِ راست متعلقہ ممتحن تک پہنچائی جا سکیں گی۔
یوں پنجاب کے تعلیمی بورڈز میں امتحانی پرچوں کی جانچ کا روایتی نظام بتدریج ایک جدید، ڈیجیٹل اور زیادہ قابلِ نگرانی مارکنگ سسٹم میں تبدیل ہونے کی راہ پر گامزن ہے۔