
Punjab Announces Major Action After Poor 9th Class Results
September 4, 2026پنجاب کے محکمہ تعلیم نے 9ویں جماعت کے کمزور نتائج اور میٹرک میں طلبہ کی کم تعداد والے سرکاری اسکولوں کے خلاف اہم کارروائی پر غور شروع کر دیا ہے۔
محکمہ تعلیم کی جانب سے ایسے سرکاری ہائی اسکولز کا جائزہ لیا جا رہا ہے جہاں میٹرک کلاس میں طلبہ کی تعداد انتہائی کم ہے۔ حکام کے مطابق جن اسکولوں میں بورڈ کے میٹرک امتحان کے لیے 20 سے کم طلبہ رجسٹرڈ ہیں، ان میں سے بعض کا ہائی اسکول کا درجہ ختم کرکے انہیں دوبارہ مڈل اسکول کا درجہ دینے کی تجویز زیر غور ہے۔
کم طلبہ والے اسکولوں کا جائزہ شروع
محکمہ تعلیم کے مطابق پنجاب بھر میں ایسے سینکڑوں اسکولز موجود ہیں جہاں میٹرک کی سطح پر طلبہ کی تعداد 20 سے بھی کم ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کم انرولمنٹ کے ساتھ ساتھ اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی اور 9ویں جماعت کے نتائج کو بھی اس جائزے میں مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
اگر کسی اسکول کا ہائی اسکول کا درجہ ختم کیا جاتا ہے تو وہاں زیر تعلیم میٹرک کے طلبہ کو قریبی ایسے اسکولوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں میٹرک کی کلاسز باقاعدگی سے جاری ہیں۔
لاہور کے مختلف اسکول بھی زیرِ جائزہ
لاہور میں بھی چند سرکاری اسکولوں میں میٹرک کے طلبہ کی تعداد انتہائی کم سامنے آئی ہے۔
محکمہ تعلیم کے مطابق گورنمنٹ ہائی اسکول سینٹ فرانسس نیو انارکلی میں میٹرک کے لیے 10 سے بھی کم طلبہ زیر تعلیم ہیں، جبکہ گورنمنٹ پاکستان ماڈل اسکول رحمان پورہ میں میٹرک کے لیے 20 سے کم طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔
اسی طرح گورنمنٹ ہائی اسکول سنت نگر میں بھی میٹرک کے طلبہ کی تعداد بہت کم بتائی گئی ہے۔
ان اسکولوں سمیت دیگر اداروں کی صورتحال کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ موجودہ ہائی اسکول اسٹیٹس برقرار رکھا جائے یا انہیں دوبارہ مڈل اسکول کا درجہ دیا جائے۔
کمزور رزلٹ دینے والے اسکولوں کے خلاف بھی کارروائی
دوسری جانب لاہور کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن طارق محمود نے 9ویں جماعت کے کمزور نتائج والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
ان کے مطابق جن اسکولوں کا 9ویں جماعت کا نتیجہ 30 فیصد سے کم رہا ہے، ان سے خراب کارکردگی کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔
محکمہ تعلیم یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ کم نتائج کی وجوہات کیا ہیں اور متعلقہ اسکولوں کی تعلیمی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
پنجاب کے سرکاری اسکولوں کے لیے اہم تبدیلی؟
اس اقدام کا مقصد کم انرولمنٹ اور ناقص تعلیمی نتائج والے اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ لینا اور دستیاب تعلیمی وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اگر ہائی اسکول کا درجہ ختم کرنے کی تجویز پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو متاثرہ اسکولوں کے میٹرک طلبہ کو قریبی ہائی اسکولز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
تاہم اسکولوں کا حتمی درجہ تبدیل کرنے یا طلبہ کی منتقلی کے حوالے سے حتمی فیصلہ متعلقہ محکمہ تعلیم کی منظوری کے بعد ہی ہوگا۔
اہم نکات
پنجاب میں کم انرولمنٹ والے سینکڑوں اسکولز زیرِ جائزہ ہیں۔
20 سے کم میٹرک طلبہ والے اسکولوں کا خصوصی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بعض ہائی اسکولز کو دوبارہ مڈل اسکول بنانے کی تجویز ہے۔
ایسے اسکولوں کے میٹرک طلبہ کو قریبی ہائی اسکولز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔
30 فیصد سے کم 9ویں جماعت کا رزلٹ دینے والے اسکولوں سے وضاحت طلب کی گئی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف سرکاری اسکول اس کارروائی کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔
علم گھر آن لائن طلبہ، والدین اور اساتذہ کے لیے پنجاب کے تعلیمی نظام، بورڈ امتحانات، نتائج اور اہم تعلیمی خبروں سے متعلق تازہ معلومات فراہم کرتا رہے گا۔