PIERA کی جانب سے جاری کردہ اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس پر سوالات اٹھا دیے گئے۔
May 9, 2026قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت نے اسکول لیونگ سرٹیفکیٹس کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سرٹیفکیٹس اس وقت PIERA کی جانب سے جاری کیے جا رہے ہیں۔
کمیٹی نے اس عمل کی مؤثریت پر سوال اٹھاتے ہوئے زور دیا کہ ایسے سرٹیفکیٹس جاری کرنے سے پہلے متعلقہ تعلیمی ادارے سے مناسب تصدیق ضروری ہونی چاہیے۔
کمیٹی کا 22واں اجلاس قائم مقام چیئرپرسن سیدہ آمنہ بتول، رکن قومی اسمبلی، کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔
کمیٹی نے سرکاری اور نجی اسکولوں میں بچوں کی اخلاقی تربیت کے اہم مسئلے پر بھی زور دیا۔ کمیٹی کے مطابق شہری تعلیم (Civic Education) کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ طلبہ میں اخلاقی اقدار، سماجی ذمہ داری اور کردار سازی پیدا کی جا سکے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ نجی اسکولوں کے لیے ایک آن لائن پورٹل تیار کر لیا گیا ہے جبکہ سالانہ فیس میں اضافے کو 5 سے 10 فیصد تک محدود رکھا جائے گا۔
مزید بتایا گیا کہ غیر رجسٹرڈ اسکولوں کی نشاندہی کر لی گئی ہے اور PIERA قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
تاہم کمیٹی نے اس بات پر سخت تنقید کی کہ PIERA کو نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کے ضابطے اور ادارے کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کرنی چاہیے تھی۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس وقت پاکستان میں آٹھ بین الاقوامی تعلیمی بورڈز کام کر رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد تعلیمی مقابلے کو فروغ دینا اور اسکولوں کو اپنی پسند کا بورڈ منتخب کرنے کی سہولت دینا ہے، جبکہ اس سے پرچہ لیک جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کئی ادارے، جن میں فیڈرل میڈیکل کالج، پاکستان بیت المال، سوشل ویلفیئر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ، وزارتِ انسانی حقوق، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی اور توانا پاکستان پراجیکٹ شامل ہیں، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف اسپیشل ایجوکیشن (DGSE) کی عمارتوں پر قابض ہیں۔
کمیٹی نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمارتیں خصوصی بچوں کی سہولت کے لیے واپس حاصل کی جانی چاہئیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ متعلقہ اداروں کو عمارتیں خالی کرنے کے خطوط جاری کیے جا چکے ہیں، تاہم اب تک صرف سوشل ویلفیئر ٹریننگ انسٹیٹیوٹ نے عمارت خالی کی ہے۔
قومی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کمیشن (NAVTTC) کے بارے میں کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے نے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کے نظام میں بڑی تبدیلیوں کی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ اب تربیتی پروگراموں کو صنعتوں کی ضروریات اور روزگار کے مواقع کے مطابق بنایا جا رہا ہے تاکہ نوجوانوں کو بہتر ملازمتیں مل سکیں۔
اجلاس میں انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے بھی بریفنگ دی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ IBCC ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے ساتھ رابطہ کاری کرتا ہے اور SSC و HSSC اسناد کی تصدیق اور غیر ملکی تعلیمی اسناد کی ایکوی لینس فراہم کرتا ہے۔ IBCC نے بتایا کہ طلبہ اسناد کی تصدیق کے لیے تین سہولیات استعمال کر سکتے ہیں:
آن لائن اپائنٹمنٹ کے بعد ذاتی طور پر دستاویزات جمع کروانا
کورئیر سروس کے ذریعے دستاویزات بھیجنا
ہنگامی صورت میں ایکسپریس سروس
کمیٹی نے وزارتِ تعلیم، IBCC، PIERA اور DGSE کی اصلاحاتی کوششوں اور کارکردگی کو سراہا۔
اجلاس میں متعدد ارکانِ قومی اسمبلی، وزارتِ وفاقی تعلیم کے حکام، ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔