
محکمہ سکول ایجوکیشن کا پرائمری کے بعد مڈل سکولوں کو بھی آؤٹ سورس کرنے کا فیصلہ
May 3, 2026محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے پرائمری سکولوں کے بعد اب مڈل سکولوں کو بھی آؤٹ سورس (Out Source)کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کا مقصد تعلیمی معیار میں بہتری اور وسائل کا مؤثر استعمال بتایا جا رہا ہے۔
محکمہ کے مطابق یہ فیصلہ 2025 کی سکول شماری (School Census) کی بنیاد پر کیا جا رہا ہے، جس میں مختلف سکولوں کی کارکردگی، طلبہ کی تعداد، عمارتوں کی حالت اور سہولیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ایسے سکول جن کی عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہیں انہیں فوری طور پر بند کیا جائے گا، جبکہ وہ سکول جو کم سہولیات، کم انرولمنٹ یا ناقص کارکردگی کا شکار ہیں انہیں آؤٹ سورسنگ کے عمل میں شامل کیا جائے گا۔
محکمہ سکول ایجوکیشن نے بتایا ہے کہ 100 سے 150 طلبہ کی انرولمنٹ رکھنے والے سکولز کو بھی آؤٹ سورسنگ لسٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ ان سکولوں کو نجی یا پارٹنر مینجمنٹ کے تحت چلایا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار بہتر ہو سکے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس عمل کے دوران بعض منتخب سکولوں کو “نواز شریف سکول آف ایمننس” کیٹیگری میں بھی شامل کیا جائے گا، جہاں جدید سہولیات اور بہتر تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے گا۔
محکمہ کے مطابق اس سے قبل پنجاب میں تقریباً 13 ہزار سکولوں کو مختلف مراحل میں آؤٹ سورس کیا جا چکا ہے، جس کے مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات سامنے آئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ فیصلے کا بنیادی مقصد تعلیمی نظام کو بہتر بنانا اور وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنا ہے۔
دوسری جانب اس فیصلے پر تعلیمی حلقوں میں مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ کچھ ماہرین اسے اصلاحاتی اقدام قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض کے مطابق اس سے سرکاری تعلیمی اداروں کی حیثیت مزید متاثر ہو سکتی ہے۔